بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا تین طلاق کے نوٹس لکھواکر بیوی کو ایک بھیجنا


سوال

 شوہر نے اپنی بیوی کے  لیے وکیل سےتین نوٹس لکھوائے طلاق سے متعلق،  جس میں یہ درج کروایا کہ ”بیوی کے بار بار جھگڑا کرنے اور بار بار طلاق کے اصرار پر اس کو میری طرف سے طلاق نوٹس‘‘۔  اور اس میں گواہان کا بھی ذکر ہے۔  اور بیوی کا  کہنا ہے کہ میری طرف سے کوئی جھگڑا نہیں، اور نہ ہی میں نے طلاق کا اصرار کیا ہے۔  لیکن شوہر نے ایک نوٹس میکے گئی ہوئی اپنی بیوی کے گھر بھجوادیا جس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا اور شوہر نے بقیہ دو نوٹس اپنے پاس رکھ لیے،  اور وقفہ وقفہ سے بھیجنے کا ارادہ کرلیا، لیکن اس دوران دونوں فریقین کی طرف سے صلح پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے،  علمائے ربانی کی خدمت میں عرض ہے کہ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں مذکورہ مسئلہ میں ایک طلاق واقع ہوئی یا تین طلاق واقع ہو چکی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  طلاق دینے کے لیے زبان سے  طلاق کے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ہے،  جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح تحریری طور پر  طلاق دینے سے  بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے  خواہ وہ تحریر خود لکھی ہو یا کسی سے لکھوائی  اور خواہ بیوی کو ڈرانے، دھمکانے کے لیے ہو یا مذاقاً ہو یا کسی اور نیت سے ہو ، نیز   چوں کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر کو حاصل ہے، اور شوہر کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی  ہے، طلاق واقع ہونے کے لیے   طلاق کے الفاظ کا بیوی کا سننا، یا طلاق کی تحریر کا بیوی کا پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ اگر واقعۃً شوہر نے طلاق کے تین نوٹس لکھوائے جس میں سے ہر ایک نوٹس میں یہ درج کرایا کہ ”بیوی کے بار بار جھگڑا کرنے اور بار بار طلاق کے اصرار پر اس کو میری طرف سے طلاق“  تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقِ مغلظہ واقع ہوگئیں، اور میاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیا ہے، اب شوہر کے لیے رجوع کرنا درست نہیں ہے۔

حدیثِ مبارک  میں ہے:

"وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة ". رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب". (مشکوٰۃ، 2/284، باب الخلع والطلاق، ط: قدیمی)

 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدراً ومعنوناً، مثل ما يكتب إلى الغائب، وغير موسومة أن لايكون مصدراً ومعنوناً، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته، وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لايمكن فهمه وقراءته، ففي غير المستبينة لايقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينةً لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا، وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لاتخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد! فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة".  (1/ 378)

      فتاوی شامی میں ہے:

"ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب، جوهرة".

وفي الرد:

"وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو ... ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقراراً بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها، وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخةً وابعث بها إليها". (3/246، کتاب الطلاق، مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فإن طلقها فلاتحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً". (3/187، فصل في حكم الطلاق البائن، کتاب الطلاق، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200577

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں