بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ


سوال

بغیر کسی شرعی عذر کے خلع واقع ہوجاتی ہے؟ اگر شوہر میں کوئی شرعی عذر نہ ہو اور بیوی پھر بھی خلع کا مطالبہ کرے اور عدالت سے تنسیخ نکاح کی ڈگری بھی لے لے تو کیا یہ خلع جائز سمجھی جائےگی؟

شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ آپ نے جو مجھ پر الزام لگائے ہیں، ان پر قرآن کا حلف لیں تو میں خود آپ کے خلع پر دستخط کروں گا، کیا یہ مطالبہ جائز ہے؟ اگر الزامات سچے ہیں تو بیوی کو حلف لے کر خود کو سچا ثابت کرنے میں کیسی شرم؟ اگر وہ حلف لے لے اور شوہر کو 100% یقین بھی ہو کہ یہ جھوٹا حلف لیا گیا ہے تو ایسی عورت کے بارے میں کیا حکم ہے جو ناحق طلاق یا خلع لے رہی ہو؟

جواب

شوہر یا بیوی کےصحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ تو یہاں نہیں کیا جاسکتا، البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ شرعی طور پر  شوہر کے زبانی طور پر خلع قبول کرلینے یا خلع کے کاغذات پردستخط کے بغیر خلع واقع نہیں ہوتا، چاہے وہ خلع کی ڈگری عدالت سے جاری کی گئی ہو۔

باقی بغیر معقول وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت کے لیے حدیث میں وعید وارد ہوئی ہے کہ اس پر جنت کی خوش بو  حرام ہے، اور اگر واقعۃً بیوی ناحق ہونے کے باوجود جھوٹا الزام لگاکر شوہر سے خلع حاصل کرے گی تو دوہرے گناہ کی مرتکب ہوگی۔

     سنن أبی داود  میں ہے:

"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»". (1/310، باب الخلع، ط: حقانیہ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں