بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شریک کا اضافی اجرت لینا


سوال

دو آدمیوں  نے مل کر ایک دکان کھولی اور دونوں نے آدھا آدھا پیسہ لگایا ہے اور منافع بھی آدھا آدھا تقسیم کر لیتے ہیں، لیکن ایک شریک اس دکان میں محنت کرتا ہے اور دوسرا محنت نہیں کرتا تو کیا محنت کرنے والا اپنی محنت کی اجرت لے سکتا ہے ؟

جواب

محنت کرنے والا شریک علیحدہ سے اپنے عمل کی اجرت نہیں لے سکتا، اس لیے کہ وہ اپنے سرمایہ ہی کے لیے محنت کررہا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ دونوں اپنی شرکت کے معاہدے میں نفع  کی تقسیم کی شرح تبدیل کرکے محنت کرنے والے کے لیے نفع کی شرح زیادہ طے کرلیں، مثلاً:  دو تہائی نفع محنت کرنے والے شریک کا ہو اور ایک تہائی دوسرے کا، یہ جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 60):
’’(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لا يعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه؛ فلا يستحق الأجر‘‘.
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200941

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے