بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

شرکت کے انعقاد کے لیے مال موجود ہونے کی شرط کی وضاحت


سوال

شرکت کے انعقاد کے لیے فقہاء نے بوقتِ عقد یا  بوقتِ شراء مال کے موجود ہونے کی شرط لگائی ہے،  آج کل رقم بینکوں میں جمع ہوتی ہے اور عقد کے وقت مال کا حاضر کرنا بسا اوقات دشواری کا باعث ہوسکتا ہے،  بالخصوص قانونی پیچیدگیاں بھی آسکتی ہیں تو  اگر شرکاء کی رقم بینک ہی میں موجود ہو تو کیا یہ جوازِ شرکت کے لیے کافی ہے؟ یا حسی طور باضابطہ اکاؤنٹ سے رقم نکال کر حاضر کرنا یا کسی مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع کرنا ضروری ہے؟

جواب

شرکت کے لیے مال کا موجود ہونا شرکت  کے معاہدے کے لیے شرط نہیں ہے۔ بلکہ اس وقت شرط ہے جب خریداری کا موقع آجائے؛ تاکہ مشترکہ مال سے خریداری ہو اور شرکت کا انعقا ہوسکے، اس لیے اگر شرکاء شرکت کا معاہدہ کریں اور اس وقت رقم موجود نہ ہو تب بھی معاہدہ درست ہے، معاہدے کے بعد جب کوئی چیز خریدی جائے اس وقت سب شرکاء کی رقم موجود ہو؛ تاکہ خریداری مشترکہ رقم سے ہو ۔ اگر مشترکہ اکاؤنٹ کھول کر اس سے ادائیگی کردی جائے،  تب بھی درست ہے۔ 

بدائع الصنائع میں ہے: 

"( ومنها): أن يكون رأس مال الشركة عينًا حاضرًا لا دينًا، ولا مالًا غائبًا، فإن كان، لاتجوز، عنانًا كانت أو مفاوضةً؛ لأن المقصود من الشركة الربح، وذلك بواسطة التصرف، ولايمكن في الدين ولا المال الغائب، فلايحصل المقصود، وإنما يشترط الحضور عند الشراء لا عند العقد؛ لأن عقد الشركة يتم بالشراء، فيعتبر الحضور عنده، حتى لو دفع إلى رجل ألف درهم، فقال له: أخرج مثلها، واشتر بهما، وبع فما ربحت يكون بيننا، فأقام المأمور البينة، أنه فعل ذلك جاز وإن لم يكن المال حاضرًا من الجانبين عند العقد لما كان حاضرًا عند الشراء. وهل يشترط خلط المالين، وهو خلط الدراهم بالدنانير أو الدنانير بالدراهم؟ قال أصحابنا الثلاثة: لايشترط، وقال زفر: يشترط، وبه أخذ الشافعي رحمه الله. وعلى هذا الأصل: يبني ما إذا كان المالان من جنسين، بأن كان لأحدهما دراهم، والآخر دنانير، أن الشركة جائزة عندنا، خلافًا لهما، وكذلك إذا كانا من جنس واحد، لكن بصفتين مختلفتين كالصحاح مع المكسرة، أو كانت دراهم أحدهما بيضاء، والآخر سوداء. وعلة ذلك في شركة العنان فهو على هذا الخلاف.
وروي عن زفر: أن الخلط شرط في المفاوضة، لا في العنان. ولكن الطحاوي ذكر أنه شرط فيهما عند زفر.
(وجه) قوله: أن الشركة تنبئ عن الاختلاط، والاختلاط لايتحقق مع تميز المالين، فلايتحقق معنى الشركة، ولأن من أحكام الشركة أن الهلاك يكون من المالين، وما هلك قبل الخلط من أحد المالين".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے