بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

شرکت اور مضاربتِ فاسدہ کا حکم


سوال

معلوم یہ کرنا تھا کہ ایک بندے نے دوسرے بندے کو 2 لاکھ روپے دیے کاروبار میں لگانے کے لیے،  اور فیصد طے نہیں کی،  بس 10 ہزار روپے ہر مہینے کے طے کرلیے تو یہ تو غلط ہوگیا اور اس بندے نے آٹھ  مہینے  تک  10  ہزار  کر کے  80 ہزار  دے دیے، اب ان لوگوں نے ایک جگہ مسئلہ معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ بقیہ 120000 واپس کریں اور بات ختم، مگر وہ یہ چاہ رہے ہیں کہ اس کا کوئی حل نکل جائے تو بہتر ہوگا. برائے مہربانی شرعی اَحکام کی روشنی میں اس کا حل بتادیجیے!

جواب

جس بندے کو کاروبار میں لگانے کے لیے پیسے دیے اگر اس کا سرمایہ بھی اس کاروبار میں شامل تھا تو مذکورہ معاملہ شرکت کا معاملہ تھا، نفع کا تناسب طے نہ کرنے کی وجہ سے شرکت فاسد ہوگئی اور شرکتِ فاسدہ میں ہر ایک شریک اپنے سرمائے کے تناسب سے نفع نقصان کا حق دار ہوتا ہے، لہذا فریقین اپنے اپنے سرمائے کے تناسب سے نفع و نقصان  کا حساب لگاکر سرمایہ وصول کرکے علیحدہ ہوجائیں، اور اگر دوبارہ شرکت کا معاملہ کرنا چاہیں تو شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے از سرِ نو معاہدہ کریں۔

اور اگر سرمایہ ایک کا اور محنت دوسرے کی تھی تو یہ معاملہ مضاربت کا تھا جوکہ نفع کا تناسب طے نہ کرنے کی وجہ سے فاسد ہوگیا، جس میں نفع  نقصان سرمایہ دار کا اور محنت کرنے والا اجرتِ مثل کا مستحق ہوگا۔ اس کے مطابق حسابات صاف کرکے ازسرِ نو معاملہ کرلیں۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار (4 / 326):
" ( والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال ولا عبرة بشرط الفضل ) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله، كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما فالشركة فاسدة، والربح للمالك وللآخر أجر مثله، وكذلك السفينة والبيت، ولو لم يبع عليها البر فالربح لرب البر وللآخر أجر مثل الدابة". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201275

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے