بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1441ھ- 09 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

شرم گاہ کو چھونے سے وضو کا حکم


سوال

 کچھ عرصہ پہلے ایک عالم سے بات پتا چلی کہ غسل کے دوران جب وضو کر چکو تو جسم پر پانی ڈالنے کے دوران آپ شرم گاہ کو نہیں چھو سکتے،  اگر چھو لیا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور غسل دوبارہ سے کرنا پڑے گا، اب میں نے آپ کی ویب سائٹ پر یہ مسئلہ پڑھا کہ غسل کے دوران جسم کو اچھی طرح سے ملو.براہِ کرم اس مسئلہ کی وضاحت کر دیں!

جواب

غسل کے دوران یا غسل کرنے کے بعد شرم گاہ کو ہاتھ لگ جانے  یا شرم گاہ  کو بغیر حائل کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ حدیثِ مبارک  میں آتا ہے کہ  ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص نماز میں اپنی شرم گاہ کو چھو لے تو وضو کرے؟ تو  نبی ﷺ نے فرمایا:  شرم گاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔ البتہ بغیر حائل شرم گاہ چھولینے کے بعد ہاتھوں کا دھو لینا مستحب ہے، جیساکہ فقہاء نے ذکر کیاہے، اور بعض فقہاء نے فرمایا کہ اگر پانی سے استنجا نہ کیا ہو، بلکہ پتھر، ڈھیلے یا ٹشو وغیرہ سے استنجا کیا ہو اور ناپاکی ہاتھ پر نہ لگی ہو تو  اس کے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے۔

بہرحال غسل کے دوران اعضاء کو ملنا سنت ہے، اس کا مقصد میل کچیل کا اِزالہ اور پورے جسم تک پانی پہنچانا ہے، کیوں کہ بعض اوقات صرف پانی بہانے سے مکمل عضو تر نہیں ہوتا، لہٰذا غسل کرتے وقت اچھی طرح پاکی حاصل کرنا، اوراعتدال کے ساتھ  جسم کو ملنا درست ہے، اس سے نہ غسل کا اعادہ لازم ہے اور نہ ہی اس سے وضو ٹوٹتاہے۔

 

مسند أحمد:
"عن قيس بن طلق، عن أبيه قال: سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم أيتوضأ أحدنا إذا مس ذكره؟ قال: «إنما هو بضعة منك أو جسدك»". (مسند أحمد مخرجًا (26/ 214)

المبسوط للسرخسي:

"وکذلک إن مسّ ذکره بعد الوضوء فلاوضوء علیه، وهذا عندنا، وکذلک إذا نظر إلی فرج امرأة".  (المبسوط للسرخسي، کتاب الصلاة، باب الوضوء والغسل، 1/183- ط: رشیدیه)

الفتاوى الهندية (1/ 13):

"مس ذكره ... ليس بحدث عندنا. كذا في الزاد".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  - (1 / 167):
"وإن سلكنا طريق الجمع جعل مس الذكر كناية عما يخرج منه، وهو من أسرار البلاغة يسكتون عن ذكر الشيء ويرمزون عليه بذكر ما هو من روادفه فلما كان مس الذكر غالبًا يرادف خروج الحدث منه ويلازمه عبر به عنه كما عبر الله تعالى بالمجيء من الغائط عما يقصد لأجله ويحل فيه، فيتطابق طريقا الكتاب والسنة في التعبير فيصار إلى هذا لدفع التعارض، والله الموفق للصواب، ويستحب لمن مس ذكره أن يغسل يده، صرح به صاحب المبسوط، وهذا أحد ما حمل به حديث بسرة، فقال: أو المراد بالوضوء غسل اليد استحبابًا كما في قوله: الوضوء قبل الطعام ينفي الفقر، وبعده ينفي اللمم، لكن في البدائع ما يفيد تقييد الاستحباب بما إذا كان الاستنجاء بالأحجار دون الماء، وهو حسن كما لايخفى".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200833

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں