بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شراکت میں نفع تقسیم کرنے کے لیے ایک خاص مقدار طے کرنے کا حکم


سوال

میں نے ایک دوست کے ساتھ کپڑ ے کا کاروبار شروع کیا ہے، میں نے دوست کو 2000000 بیس لاکھ روپیہ دیا ہے ۔میرا دوست کراچی سے کپڑے لے کر گوادرمیں لاتا ہے، گوادر میں اپنی دوکان کے لیے، پھر تمام کپڑوں کو میرے پاس لیتا ہے اور فی میٹر کپڑے پر مجھے 10 روپیہ منافع دیتا ہے ۔میرا یہ کاروبار جائزطریقہ ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ شرکت  کے کاروبار کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ منافع تقسیم کرنےکے لیے ایک خاص مقدار  طے نہ کی جائے، بلکہ اس کے لیے شرح فیصد طے کر لی جائے اور اسی حساب سے نفع کو تقسیم کیا جائے، اگر کسی کاروبار میں شرکاء نے منافع تقسیم کرنے کے لیے ایک خاص مقدار طے کر لی تو ایسا کرنا جائز نہیں۔

لہذا آپ نے اپنے دوست کے ساتھ جو معاملہ کیا ہے اور  اس میں تقسیمِ منافع  کے بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ آپ کا دوست ہر میٹر پر 10 روپے آپ کو دے دیتا ہے، یہ صورت اختیار کرنا شرعاً درست نہیں، اس کی جائز صورت  یہ ہے کہ منافع کو فیصد کے اعتبار سے تقسیم کیا جائےمثلاً دونوں پچاس پچاس فیصد کے حق دار ہوں گے،  اس طرح یہ شراکت درست ہو گی۔

ایک جائز صورت یہ  ہوسکتی ہے کہ آپ خود کپڑاخرید لیں اور پھر اپنے دوست پر کچھ مدت کےلیے زیادہ قیمت پر فروخت کردیں یعنی نقد میں کم پر خریدیں اور ادھار زیادہ پر بیچ دیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200478

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے