بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شراکت داری میں نفع کی تقسیم کس طرح سے طے کرنی چاہیے؟


سوال

میں انوسٹمنٹ لے کر کاروبار کرنا چاہتا ہوں،  اس میں کیا صورت صحیح ہوگی کہ جس میں میں اسے نفع بھی دیا جائے اور تقسیم نفع کا طریقہ بھی صحیح ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نفع و نقصان کی تقسیم فی صدی اعتبار سے طے کی جائے، مثلاً  40 و 60 کے تناسب سے نفع نقصان میں شراکت داری طے کرلی جائے، متعین نفع مقرر کر کے شراکت داری کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

فی صدی اعتبار سے نفع کی شرح طے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ  مثلاً جو نفع حاصل ہو ، اس کا 30 فی صد انویسٹر/ انویسٹرز کو اور 70 فی صد ورکنگ پارٹنر کو دیا جائے گا۔ یا دونوں طرف سے سرمایہ شامل کرکے کاروبار ہوتو بھی حاصل ہونے والے نفع میں شرح فی صد کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔ اور اگر خدانخواستہ نقصان ہوگیا تو اولاً نفع سے خسارہ پورا کیا جائے گا، اگر خسارہ میں مکمل نفع صرف ہوجائے تو پھر شرکاء کے حصص کے تناسب سے سرمایہ  سے وہ خسارہ پورا کیا جائے گا۔

نفع کی تقسیم کل سرمایہ کی شرح فی صد کے اعتبار سے کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ اس میں نفع متعین ہوجاتاہے۔ مثلاً: زید نے دس لاکھ روپے انویسٹ کیے ہوں، تو یوں طے کرنا کہ زید کو سرمایہ کا دو فیصد ملے گا یہ درست نہیں ہے، کیوں کہ اس صورت میں سرمایہ کا دو فی صد (20,000 روپے) متعین ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201076

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے