بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شراب بیچنے والے اسٹور میں ملازمت کا حکم


سوال

میں ایک کیش اور کیری ان گلاسگو اسکاٹ لینڈ میں کام کرتا ہوں، یہ اسٹور جہاں پرچون کا سامان، ٹافیاں، چاکلیٹس، اینرجی ڈرنکس سافٹ ڈرنکس، انسانی اشیائے خوردونوش، وغیرہ عام ضروریات زندگی سے متعلق اشیاء  بیچتا ہے، وہاں الکحل بھی بیچتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ:

۱: کیا اس اسٹور میں میرا کام کرنا ٹھیک ہے؟ میری آمدن حلال ہے؟

۲: اس اسٹور کا مالک مسلمان ہے، اس مسلمان کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا کوئی مسلمان الکحل بیچ سکتا ہے؟

۳: اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان کے لیے الکحل بیچنا بہت ہی برا عمل ہے، تو کیا آپ اس شخص سے براہ راست گفتگو کرسکتے ہیں؟ یا کیا آپ اس کے متعلق کوئی فتوی جاری کرسکتے ہیں؟

جواب

۱: اگر مذکورہ اسٹور پر بکنے والی زیادہ تر اشیاء  حلال ہیں، نیز آپ کی ملازمت  الکحل یا دیگر حرام چیزوں ہی کی خرید وفروخت سے متعلق نہ ہو، تو اس اسٹور پر ملازمت کرنا جائز، اور ملنے والی آمدن حلال ہے، تاہم الکحل بیچناناجائز ہے اوراس کے بدلے ملنے والا نفع بھی ناجائز ہے۔ نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے متعلق دس اشخاص پر لعنت فرمائی ہے، ان دس اشخاص میں سے پینے والے اور خریدنے والے کی طرح بیچنے والا اور شراب اٹھا کر حوالہ کرنے والا بھی ہے، اس لیے اگر غیر مسلم بھی شراب خریدنے آئے تو سائل کی ذمہ داری ہے کہ وہ شراب  اٹھا کر ہرگز حوالہ نہ کرے، بلکہ مالک یا دیگر ملازمین کو  بتادے کہ بحیثیت مسلمان سائل کے لیے اس سلسلے میں تعاون جائزنہیں ہے۔

۲، ۳: مسلمان کے لیے جس طرح شراب کا پینا حرام ہے، اسی طرح اس کا بیچنا بھی حرام ہے۔ اسٹور کے مالک سے ہمارے لیے گفتگو ممکن نہیں ہے تاہم آپ ہماری  تحریر ان  تک پہنچاسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143806200037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں