بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شازل نام رکھنا


سوال

میں اپنے بیٹے کا نام ’’شازل‘‘ رکھنا چاہتا ہوں. کیا یہ درست ہے؟

جواب

اس نام کے معنی لغت میں نہ ملے۔ بچوں کے نام رکھنے کے متعلق  بہتر صورت یہ ہے کہ  انبیاء  کرام علیہمُ السلام ، صحابہ رضی اللہ عنہم  اور امت کے اکابر واسلاف کے ناموں کو اختیار کیا جائے۔لہذا یہ نام رکھنا مناسب نہیں۔

تاج العروس:

"شَاذِلٌ كصَاحِبٍ أَهْمَلَهُ الجَوْهَرِيِّ وصاحِب اللِّسانِ وقالَ الصَّاغَانِيُّ: هو عَلَمٌ والذَّالُ مُعْجَمَةٌ. وشَهْرَانُ هكذا في النَّسَخِ والصَّوَابُ : سَهْرَابُ بْنُ شَاذِلٍ كما في التَّبْصِيرِ مِنْ أَجْدادِ مَكْحُولٍ قالَ الحَافِظُ : سَهْرَابُ هو أبو مُسْلِمٍ والِدُ مَكْحُولٍ كَذا في الإِكْمالِ فهو مَكْحُولُ بنُ مُسْلِمِ بنِ سَهْرَابَ بنِ شَاذِلٍ . وشَيْذَلَهْ كحَيْدَرَةَ لَقَبُ عُزَيْزِي بْنِ عَبْدِ المَلِكِ الْفَقِيهِ الشَّافِعِيِّ تَرْجَمَهُ السُّبْكِيُّ في الطَّبَقَاتِ وقالَ : كانَ وَاعِظاً مَشْهُوراً غيرَ أَنَّهُ ضَبَطَهُ بالدَّالِ المَهْمَلَةِ". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں