بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

شادی کی رسومات اور جہیز کا حکم


سوال

میں ایک شادی شدہ نوجوان ہوں ،میرے گھر والوں نے میری مرضی کے خلاف غیر دین دار گھر میں پورے ہندوانہ رسم و رواج کے ساتھ میرا نکاح کروایا۔

میرے سسر کی تین بیٹیاں ہیں، تینوں کی شادی وہ کر چکے ہیں اور جہیز میں انہوں نے تینوں کو برابر جہیز نہیں دیا، بڑی کو سب سے کم اس سے چھوٹی کو اس سے زیادہ اور سب سے چھوٹی کو سب سے زیادہ ۔

اور لڑکی کو وراثت میں تو ویسے ہی معیوب سمجھا جاتا ہے تو کیا میرے سسر نے درست کیا ؟

جواب

نکاح ایک مسنون عمل ہے اور شریعت نے  نکاح کو سادہ اور آسان رکھا ہے، اس میں تکلفات،لوازمات،رسوم و رواج کو  ناپسند قرار دیا ہے۔ ان سے نکاح  کی سنت مشکل ہوجاتی ہے،  یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندانوں میں شادیاں ان ہی رسومات کے پورا نہ کر سکنے  کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوجاتی ہیں، نیز ان رسموں میں کس قدر مال خرچ کیا جاتا ہے جب کہ قرآنِ کریم میں اسراف وتبذیر کی صراحۃً ممانعت وارد ہے ۔

اِسی بنا پر پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :

" سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم مشقت (کم خرچہ اور تکلف نہ) ہو" ۔   ( مشکاۃ شریف ۲/ ۲۶۸ )

جب شریعت کا حکم اسراف وتبذیر سے بچنے کا اور نکاح کو آسان بنانے کا ہے تواحکامِ شریعت کی دھجیاں اڑاکران سے پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی خوشی کیسے نصیب ہوسکتی ہے؟

  بہرحال! شادی کے سلسلہ میں مروجہ عمومی رسومات ہندوانہ کلچر سے مسلمانوں میں پروان پائی  ہیں، اور ہر مسلمان کو ان  سے اجتناب کرنا لازم ہے۔  از روئے سنت شادی کے موقع پر صرف حسبِ استطاعت ولیمہ کی دعوت ہے۔ آپ کی مرضی کے خلاف گھر والے اس طرح کی رسومات کے مرتکب ہوئے ہیں  اور آپ نے ان میں شرکت نہیں کی تو  وہی گناہ گار ہوں گے۔

اگر والدین بغیر جبر و اکراہ کے اور بغیر نمود ونمائش کے اپنی استطاعت کی حد تک لڑکی کو شادی کے موقع پر کچھ سامان  دیتے ہیں تو  یہ درست ہے ۔ ایسی صورت میں بچی کے لیے جہیز لینا جائز ہے، اور بچی ہی جہیز کے سامان کی مالک ہوگی۔

البتہ  جہیز کے نام پر لڑکے والوں کا مطالبہ کرنا یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے محض رسم پوری کرنے کے لیے لڑکے والوں کو سامان دینا پڑے اور مذکورہ سامان دینے میں بچی کے والدین کی رضامندی بھی نہ ہو تو  ایسی صورت میں لڑکے والوں کے لیے ایسا جہیز لینا ناجائز ہے۔

اگر والداپنی اولاد کو کچھ دیتاہے تو افضل یہی ہے کہ ان کے درمیان برابری کا معاملہ کرے ،  بلاکسی شرعی وجہ کے کمی بیشی کرنا درست نہیں ۔البتہ اگر کسی شرعی سبب کی بنا  پر یعنی کسی کے زیادہ دِین دار  یا فرماں بردار  یا دوسری اولاد کی بنسبت زیادہ مستحق ہونے کی وجہ سے اسے کچھ زیادہ دے دے  تو یہ جائز ہے۔لہذا اگر آپ کے سسر نے اپنی بیٹیوں کو اپنی استطاعت کے مطابق کچھ کمی بیشی کے ساتھ شادی کے مواقع پر سامان دیاہے تو یہ درست ہے۔

البتہ یہ یاد رہے کہ جہیز دینے سے وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا، جہاں تک وراثت کی بات ہے تو وراثت کا تعلق موت سے ہے ،سسر اپنی زندگی میں اپنے اموال وغیرہ کا خود مالک ہے، اور انتقال کے بعد وہ اموال ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے اور والدین کے ترکہ میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حق وحصہ ہوتا ہے،  اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی  حصہ ہوتا ہے،  والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا  خود  تنِ تنہا قبضہ کرلینا اور بہنوں کو  ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا  ناجائز اور سخت گناہ ہے، حدیثِ پاک میں اس پر  بڑی وعیدیں آئی ہیں ، حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی،  ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے  ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200216

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے