بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ بیٹی کا اپنے والد کو زکات دینا


سوال

کیا شادی شدہ بیٹی اپنے باپ کو  قرض اتارنے کے لیے یا دوسرے اخراجات پورا کرنے کے لیے زکات دے سکتی ہے؟

جواب

زکات، فطرانہ اور عشر  اپنے اصول ( والدین، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ اوپر تک) اور فروع ( بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ نیچے تک) کو نہیں دے سکتے ہیں؛ اس لیے بصورتِ مسئولہ بیٹی کا اپنے والد کو  زکات دینا   خواہ قرض اتارنے کے لیے ہو یا اخراجات کے لیے شرعاً جائز نہیں، اگر وسعت ہو تو  زکات کے علاوہ مال سے تعاون کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے