بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ بہن کا وراثت میں حصہ


سوال

 والد صاحب نے لیز پر دوکان لی  ہو اور ایک 10 مرلے گھر ہو جو اپنا ہو،  والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد بچوں کو مل جائے، اور وہی بچے دوکان کا کرایہ ادا کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے رزقِ  حلال کماتے ہوں  تو کیا اس دوکان میں شادی شدہ بہن کا حصہ ہوگا؟  اگر اس کا شوہر بھی زندہ ہو اور اس کا گھر بھی الگ ہو؟

جواب

واضح رہے کہ میت کی ملکیت میں جو کچھ بھی ہو، وہ سب ترکہ ہوتا ہے اور تمام ورثاء کا ان کے حصوں کے بقدر اس میں حق ہوتا ہے؛  لہذا جو دکان آپ کے والد نے لی تھی وہ ان کا ترکہ شمار ہوگا اور اس میں آپ کی اس بہن کا حصہ بھی ہوگا جس کا شوہر بھی زندہ ہے اور وہ الگ رہتی ہے۔ تاہم والد کے انتقال کے بعد جو لیز کے  پیسے بھرنے تھے وہ ان کے تمام ورثاء پر ان کے حصوں کے بقدر بھرنا لازم تھا؛ لہذا جس بہن نے اپنے حصے کے پیسے نہیں بھرے، اس کے شرعی حصے سے ان پیسوں کو منہا کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے