بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سیہہ کھانے کا حکم


سوال

کسی شخص کو علم ہو یا علم نہ ہو اور وہ حرام جانور کھا لے تو کفارہ کیا ہوگاو مثلاً لمبے کانٹوں والی سیہہ کھالی؟

جواب

احناف کے نزدیک سیہہ کھانا شرعاً ناجائز ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص حرام جانوروں میں سے کوئی جانور کھالے تو اس پر توبہ واستغفار لازم ہے،  آئندہ کے لیے اپنے اس فعل سے اجتناب کرے۔

البتہ یہ یاد رہے کہ جو چیزیں قطعی حرام ہیں اگر کوئی شخص ان حرام چیزوں کوحرمت کا علم ہونے کے باجودعمداً حلال جان کر کھائے گا تو دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا، ایسے  شخص پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ  نکاح بھی دونوں لازم ہوں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200919

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے