بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے؟


سوال

سیونگ اکاؤنٹ کیوں حرام ہے؟  کیا کسی بنک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولا جا سکتا ہے؟  سیونگ اکاؤنٹ کے حلال ہونے کی کیا شرطیں ہیں؟

جواب

بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،بینکوں میں چوں کہ حقیقی تجارت نہیں ہوتی،  بلکہ قرضوں کا لین دین ہوتا ہےاور اسی سے حاصل ہونے والا سود کسٹمرز کو فراہم کیا جاتا ہے؛  اس لیے جب تک حقیقی تجارت  شرعی شرائط کا لحاظ رکھ کر نہ ہو اس کے حلال ہونے کی کوئی صورت کسی بینک میں ممکن نہیں ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200445

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے