بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سیلفی اور وڈیو بنانا


سوال

موبائل پر سیلفیاں یا ویڈیو بنا سکتے ہیں؟  اور اگر بنا سکتے ہیں تو اس کی کیا حدود ہیں؟

جواب

سیلفی بنانا جائز نہیں،کیوں کہ یہ عمل تصویر کشی ہے جو حرام ہے۔

جان دار کی ویڈیو بنانا شرعاً جائز نہیں ہے،  البتہ بےجان کی تصویر یا ویڈیو جائز ہے۔

"حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حَشَوْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةً فِيهَا تَمَاثِيلُ کَأَنَّهَا نُمْرُقَةٌ فَجَائَ فَقَامَ بَيْنَ الْبَابَيْنِ وَجَعَلَ يَتَغَيَّرُ وَجْهُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا بَالُ هَذِهِ الْوِسَادَةِ؟  قَالَتْ: وِسَادَةٌ جَعَلْتُهَا لَکَ لِتَضْطَجِعَ عَلَيْهَا، قَالَ: أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَاتَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ،  وَأَنَّ مَنْ صَنَعَ الصُّورَةَ يُعَذَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ". (كتاب بدء الخلق، باب إذا قال أحدكم: آمين والملائكة في السماء، آمين فوافقت إحداهما الأخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه، ۴/۱۱۴، الكتاب: الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه = صحيح البخاري، المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، الناشر: دار طوق النجاة)

ترجمہ: محمد مخلد ابن جریج اسماعیل بن امیہ نافع قاسم بن محمد حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے واسطے ایک چھوٹا سا تکیہ بھر دیا جس میں تصویریں تھیں۔ پس آپ ﷺ تشریف لائے تو دونوں دروازوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور آپ ﷺ کے چہر کا رنگ بدلنے لگا میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ہم سے کیا خطا ہوئی؟  آپ ﷺ نے فرمایا:  یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ تکیہ میں نے آپ ﷺ کے لیے بنایا ہے کہ آپ ﷺ اس پر سر رکھ کر لیٹیں۔ فرمایا : کیا تم نہیں جانتی  کہ (رحمت کے) فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو! اور جو تصویریں بنائیں تو قیامت کے اسے (سخت) عذاب ہوگا،  اللہ تعالیٰ حکم دے گا : جو (تصویر) تم نے بنائی ہے اسے زندہ کرو۔

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراماً لا مكروهاً إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره…" (كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ۱/۶۴۷، الكتاب: رد المحتار على الدر المختار، المؤلف: ابن عابدين، محمد أمين بن عمر بن عبد العزيز عابدين، الناشر: دار الفكر-بيروت)

" فأما صورة ما لا حياة له كالشجر ونحو ذلك فلا يوجب الكراهة؛ لأن عبدة الصور لايعبدون تمثال ما ليس بذي روح، فلايحصل التشبه بهم، وكذا النهي إنما جاء عن تصوير ذي الروح لما روي عن علي - رضي الله عنه - أنه قال: من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح، وليس بنافخ فأما لا نهي عن تصوير ما لا روح له لما روي عن ابن عباس - رضي الله عنهما - أنه نهى مصوراً عن التصوير؛ فقال: كيف أصنع وهو كسبي؟ فقال: إن لم يكن بد فعليك بتمثال الأشجار". (كتاب الصلاة، فصل شرائط أركان الصلاة، ۱/۱۱۶، الكتاب: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، المؤلف: علاء الدين، أبو بكر بن مسعود بن أحمد الكاساني الحنفي، الناشر: دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200155

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے