بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سگریٹ کا کاروبار کرنا


سوال

میں اپنے ایریا کے لیے سگریٹ کی ڈسٹری بیوشن لینا چاہ رہا ہوں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا سگریٹ کا کاروبار جائز ہے؟

جواب

سیگریٹ نوشی منہ میں بدبو کا سبب ہونے کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی ہے، حرام نہیں ہے، اور  اس کی آمدنی حلال ہے ۔ تاہم اگر حلال اشیاء میں اس سے بہتر کوئی کاروبار میسر ہو تو وہ زیادہ بہتر ہوگا۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’(سوال) میں نے ایک دکان فی الحال کھولی ہے جس میں متفرق اشیاء ہیں، ارادہ ہے کہ سگریٹ اور پینے کا تمباکو بھی رکھ لوں یہ ناجائز تو نہیں ہوگا ؟

( جواب ۱۶۳) سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے او ر اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے ۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘‘۔(9/148) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200617

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے