بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سونے (گولڈ) کا کاروبار کرنا


سوال

 کیا مسلم مرد پر سونے (گولڈ ) کا کام یعنی جیولری (اور سونے کے دیگر کام) کرنا حلال ہے یا حرام؟

جواب

سونا، چاندی، یا ان سے بنے زیورات کا کام کرنا جائز ہے، البتہ سونے، چاندی کی نقد کے بدلے خرید وفروخت میں دونوں طرف سے معاملہ نقد اور ہاتھ در ہاتھ ہونا لازمی ہے، ادھار جائز نہیں ہے۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا  فتوی ملاحظہ فرمائیں:

اُدھار پر سونا چاندی کی خرید وفروخت!

اور اگر سوال کا مقصد یہ ہے مرد کے لیے سونا یا اس کے زیورات پہننا کیسا ہے تو مرد کے لیےعام حالت میں سونا پہننا حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201936

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے