بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

سونے کی زکاۃ میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا


سوال

سونا زیورات کی شکل میں ہے تو اس پر  زکاۃ کا تعین قیمتِ خرید پر ہوگا یا قیمتِ فروخت پر؟وضاحت سے راہ نمائی فرمائیں!

جواب

سونے کے زیور کی زکاۃ کا حساب لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ زیور میں جس کیریٹ کا سونا موجود ہو، بازار میں اس قسم کے سونے کی جو قیمتِ فروخت ہے وہ معلوم کرکے اس کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکاۃ میں دینا ہوگا،  زیورات میں سے صرف سونے، چاندی کی زکاۃ ادا کرنا ہوگی، موتی، نگینے اور زیور بنانے کی اجرت اس میں شامل نہیں ہوگی۔

وفي بدائع الصنائع:

"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا؛ لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة". (2/22، ط: دارالكتب العلمية) فقط والله أعلم

باقی کتنا سونا ملکیت میں ہو تو زکاۃ واجب ہوگی، اس کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

صاحب نصاب ہونے میں سونے کا نصاب معیار ہے یا چاندی کا ؟


فتوی نمبر : 144103200596

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے