بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سونے کی ادھار خرید وفروخت کا حکم


سوال

ایک شخص  نے جیولر کو آٹھ لاکھ روپے دیے اور جب روپے دیے  تو اس وقت سونا آٹھ لاکھ کا  دس تولے بنتا ہے،  اس نے جیولر سے کہا: ابھی آپ میرے پیسے استعمال کریں،  چھ ماہ بعد میں آپ سے دس تولے سونا بنواؤں گا، چاہے اس وقت ریٹ جتنا بھی ہو ، اس صورت میں اس معاملے کا کیا حکم ہے؟

اور دوسری صورت یہ ہے کہ  پیسوں کا مالک،  جیولر سے کہے کہ اگر چھے ماہ بعد ریٹ بڑھ گیا تو آپ مجھے آج والے ریٹ کے مطابق دس تولے ہی سونا بنا کر دیں گے اور اگر چھےماہ بعد  ریٹ کم ہوا تو اس وقت کے کم ریٹ پر سونا بنا کر دیں گے اور باقی رقم واپس کریں گے۔

 دونوں صورتوں میں  جیولر رضامند ہوتا ہے،  ان دونوں صورتوں کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

شرعی اعتبار سے سونے چاندی کے معاملات میں لین دین،  نقد  اور ہاتھوں ہاتھ ہونا ضروری ہے، یعنی ایک ہی مجلس میں قیمت کی رقم دینا اور سونا  چاندی وصول کرنا  ضروری ہے اور کسی بھی جانب سے ادھار، ربوا کے دائرے میں آنے کی بنا پر ناجائز و حرام ہے۔ مذکورہ  دونوں صورتوں میں رقم  پیشگی دی جارہی ہے ، جب کہ سونا چھے ماہ بعد وصول کیا جارہا ہے، لہذا یہ دونوں صورتیں شرعاً جائز نہیں۔

"(وَيُشْتَرَطُ) عَدَمُ التَّأْجِيلِ وَالْخِيَارِ وَ (التَّمَاثُلُ) - أَيْ التَّسَاوِي وَزْنًا (وَالتَّقَابُضُ) بِالْبَرَاجِمِ لَا بِالتَّخْلِيَةِ (قَبْلَ الِافْتِرَاقِ) وَهُوَ شَرْطُ بَقَائِهِ صَحِيحًا عَلَى الصَّحِيحِ (إنْ اتَّحَدَ جِنْسًا وَإِنْ) وَصْلِيَّةٌ (اخْتَلَفَا جَوْدَةً وَصِيَاغَةً) لِمَا مَرَّ فِي الرِّبَا (وَإِلَّا) بِأَنْ لَمْ يَتَجَانَسَا  (شُرِطَ التَّقَابُضُ) لِحُرْمَةِ النَّسَاءِ" . [الدر مع الرد : ٥/ ٢٥٧-٢٥٩] فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144103200254

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں