بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سونے کا سنت طریقہ اور الٹا سونے کا حکم


سوال

سونے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کیا الٹا ہوکر سونا جائز ہے؟

جواب

سونے کے لیے لیٹنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ دائیں کروٹ پر دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھ کر قبلہ کی طرف منہ کر کے سوئے۔ اگر مکمل وقت اسی کیفیت سے سونا مشکل ہو توکم از کم سونے کے لیے لیٹتے وقت اس ہیئت پر لیٹ جائے۔ بصورتِ دیگر سیدھا لیٹنے میں بھی حرج نہیں۔ البتہ پیٹ  کے بل اُلٹا لیٹ کر سونا ناپسندیدہ اور ممنوع ہے، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو پیٹ کے بل الٹا لیٹے دیکھا تو فرمایا : ایسے (پیٹ کے بل الٹا ) لیٹنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔

صحيح البخاري (8/ 69):

"حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيب، قال: حدثني أبي، عن البراء بن عازب، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه نام على شقه الأيمن".

صحيح البخاري (8/ 69):

"حدثني موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عوانة، عن عبد الملك، عن ربعي، عن حذيفة رضي الله عنه، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أخذ مضجعه من الليل، وضع يده تحت خده، ثم يقول: «اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوْتُ وَأَحْيَا» وإذا استيقظ قال: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَـنَا وَإِلَيْهِ النُّشُوْرُ»".

سنن الترمذي ت بشار (4/ 394):

"حدثنا أبو كريب، قال: حدثنا عبدة بن سليمان، وعبد الرحيم، عن محمد بن عمرو، قال: حدثنا أبو سلمة، عن أبي هريرة، قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلاً مضطجعاً على بطنه فقال: إن هذه ضجعة لايحبها الله".

(غنیۃ المستملي۵۷۶)

"یستحب أن یؤجه إلی القبلة لما روي … والسنة أن یکون علی شقه الأیمن، کما هو السنة في النوم".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے