بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 صفر 1442ھ- 23 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سونا قسطوں پر خریدنا


سوال

کیا سونا قسطوں  پر خریدا جاسکتا ہے؟

جواب

سونے چاندی کی روپیہ پیسے کے بدلے  خرید وفروخت شرعاً "بیعِ صرف" کہلاتی ہے، اور بیعِ صرف کا حکم یہ ہے کہ اس میں دونوں طرف سے نقد ادائیگی ضروری ہے، اس لیےسونے چاندی کے معاملات میں لین دین،  نقد  اور ہاتھوں ہاتھ ہونا ضروری ہے، یعنی ایک ہی مجلس میں قیمت کی رقم دینا اور سونا  چاندی وصول کرنا  ضروری ہے اور کسی بھی جانب سے ادھار، ربوا کے دائرے میں آنے کی بنا پر ناجائز و حرام ہے، لہذاسونا چاندی قسطوں پر خریدنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200975

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں