بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سود کیا ہے؟


سوال

سود کیا ہے؟

جواب

قرآنِ کریم میں ’’ربوا‘‘کو حرام قراردیاگیاہے، اس کا ترجمہ اردومیں ’’سود‘‘سے کیاجاتاہے، مگر’’ربوا‘‘ عام مفہوم رکھتاہے اور مروجہ سود بھی اسی کا ایک فرد اور ایک صورت ہے۔

ربوا کی دو قسمیں ہیں : 

(1)  ربا الفضل:  وہ مشروط زیادتی جو عقدِ معاوضہ میں کیلی اور وزنی چیزوں میں متعاقدین میں سے کسی ایک کے لیے لگائی جائے، یعنی جو چیزیں بھی اصلاً  ناپ کر یا تول کر فروخت کی جاتی ہیں، جب ان کا تبادلہ ان ہی  کی جنس کے ساتھ کیا جائے تو یہ  ضروری ہے کہ وہ  دونوں چیزیں برابر، برابر ہوں، اور یہ معاملہ دست بدست کیا جائے، اس میں اُدھار بھی ناجائز ہے اور کمی بھی ناجائز ہے، اور ایسا معاملہ سودی ہوگا۔

(2)  ربا النسیئہ:  یعنی وہ زیادتی جو مدت کے مقابلہ میں وصول کی جائے، قرآنِ کریم ،سنتِ نبویہ اور آثارِ صحابہ اوراجماعِ امت نے قرض پرطے کرکے لی جانے والی ہرزیادتی کو ’’ربوا‘‘قراردیاہے۔

 تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو:(جواہرالفقہ،از:مفتی اعظم پاکستان محمدشفیعؒ-4/533،ط:دارالعلوم کراچی)۔(فتاویٰ بینات،از:جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن-4/9،ط:مکتبہ بینات)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200317

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے