بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ایسے شخص کو گاڑی بیچنا جو سودی قرض لے کر قیمت ادا کرے


سوال

میں اپنی گاڑی بیچنا چاہتا ہوں اور جس کو بیچ رہا ہوں اس کے پاس پیسے نہیں ہیں،  وہ گاڑی کی رقم کی ادائیگی کے لیے بینک سے سودی قرضہ لے گا،  کیا میرے لیے اسے گاڑی بیچنا جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں آپ کے لیے اپنی گاڑی کے بدلہ رقم لینا جائز ہے،  بینک سے سودی قرضہ لینے کا وبال آپ پر نہیں اور نہ ہی آپ کے معاملہ پر اس کا اثر آئےگا۔  تاہم اسے نصیحت کردیجیے کہ وہ غیر سودی قرض یا کوئی جائز متبادل تلاش کرلے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200245

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے