بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سودی حساب کتاب لکھنا اور سودی رقم سے کیے جانے والے کاروبار کا حکم


سوال

میرےدو سوالات ہیں :پہلا یہ کہ اگر کوئی فردکسی کمپنی میں اکاونٹنٹ کی جاب کرتا ہے جس کا اصل کاروبار حلال ہے لیکن وہ کمپنی سود پر قرض بھی لیتی ہے اور اکاونٹنٹ کو دوسرے حساب کے سا تھ سود کا حساب بھی درج کرنا پڑتاہےلیکن وہ سود پہلے سے لیا جاچکا ہوتا ہے اور اکاونٹنٹ اصل سودی معاہدے کا حصہ نہیں تو کیا اکاونٹنٹ کی جاب حلال ہے یا حرام؟

دوسرا سوال یہ کہ اگر کوئی فرد سود کے منافع یا کسی اور حرام کمائی سے کاروبا شروع کرتا ہے تو کیا کاروبار سے آنے والا منافع بھی حرام ہو گا حالاں کہ وہ منافع اس نے محنت سے اور حلال کاروبار کر کے کمایا ہے؟

جواب

۱۔جس کمپنی کاکاروبار حلال ہو اس میں اکاونٹنٹ کی ملازمت جائز ہے،البتہ کمپنی کے سودی معاملات کے ریکارڈ رکھنے اور سودی معاملات کے حساب  کتاب کے درج کرنے کا  گناہ ہوگا۔

۲۔حرام مال اور ا س کے ذریعہ کاروبار کی چند صورتیں ہیں جن کاحکم درج ذیل ہے:

چوں کہ سودی رقم اصلاًً حرام ہے ؛اس لیے اس سے نفع حاصل کرنا،کاروبار کرنابھی حرام ہے۔سودی رقم استعمال کرکے اگرچہ حلال کاروبار کیاجائے تب بھی اس میں حرمت وخباثت بدستور برقرار رہے گی۔اور سود کے ذریعہ کیے جانے والے کاروبار سے حاصل شدہ منافع حلال نہیں ہوگا۔

البتہ ایسی حرام کمائی سے کاروبار کرناجس کا تعلق شخصی معاملات سے ہو ،مثلاًًغصب یا رشوت وغیرہ کے ذریعہ حاصل ہونے والے مال سے کاروبار کیاجائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ  اصل رقم مالک کی طرف لوٹادی جائے، اور  اس کے ذریعہ جوکاروبار کیاہے اس کا نفع جائز ہوگا۔اور اگر مالک کا علم نہ ہو تواس کی طرف سے فقراء مساکین پر وہ رقم صدقہ کردی جائے۔

" لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔" (شامی، کتاب الحظر والاباحۃ ، باب الاستبراء، فصل فی البیع 6/385، سعید)

اسی طرح وہ حرام مال جو انسان کو بدل اور معاوضہ کے طور پر حاصل ہوا ہو، مثلاً: مسلمان نے شراب یاخنزیروغیرہ بیچ کر رقم حاصل کی ہو اور ایسی رقم سے کاروبار کیاہو ،اس صورت کاحکم یہ ہے کہ ایسی رقم سے کیے جانے والے کاروبار کی آمدنی جائز ہوگی شرط یہ ہے کہ جتنی رقم حرام آمدنی کی لگائی ہے اسے بلانیت ثواب فقراء پر صدقہ کردے۔

مزید تفصیل کے لیے فتاویٰ بینات ،جلد چہارم ،عنوان:’’سودی اداروں کےملازمین کے پاس جمع شدہ رقم کا حکم‘‘ص:75 تا 86،مطبوعہ مکتبہ بینات ،جامعہ بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143811200027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں