بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سوتیلے سالے کی بیٹی سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

کیا سوتیلے سالے کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟

جواب

سوتیلے سالے کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے، البتہ جب تک بیوی نکاح میں ہو اس وقت تک سوتیلے سالے کی بیٹی ( یعنی بیوی کے باپ شریک یا ماں شریک بھائی کی بیٹی جو بیوی کی سوتیلی بھتیجی کہلاتی ہے) سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ سالی سے نکاح کرنا تو جائز ہے، لیکن جب تک بیوی نکاح میں ہو اس وقت تک سالی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ بیوی اور اس کے سگے یا سوتیلے بھائی کی بیٹی کو ایک وقت میں نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200908

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے