بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سوئم اور اس کا کھانا


سوال

 میت کے گھر میں دوسرے یا تیسرے دن جو قران خوانی ہوتی ہے، اور اس کے بعد محلے میں چاول تقسیم کیے جاتے ہیں، اس کی شرعاً کیا حیثیت ہے،کیا یہ کھانا جائز ہے؟نیز اگر میت والےہمارے گھر میں کھانا بھیج دیں تو کیا کیاجائے؟خود استعمال کرسکتے ہیں یا غرباء میں تقسیم کردیں؟

جواب

1 ۔ مروجہ قرآن خوانی (یعنی لازم سمجھ کر متعینہ دنوں میں قرآنی خوانی کرنا، شرکت نہ کرنے والوں کو ملامت کرنا، اور قرآن پڑھنے کے عوض کھانے یا کسی اور معاوضے کا لین دین) ناجائز ہے، اس لیے اگر مروجہ قرآن خوانی میں شرکت کرکے کھانا کھایا تو ایسا کھانا جائزنہیں ہوگا، اور اگر یہی کھانا محلے میں تقسیم کیا گیا اور ایسے افراد کو دیا گیا جو اس قرآن خوانی میں شریک نہیں ہوئے تو ان لوگوں کے لیے یہ کھانا حرام تو نہیں ہوگا، لیکن چوں کہ یہ کھانا بدعت اور رسمِ بد سے متعلق ہے؛ اس لیے ایسے کھانے میں کراہت ہوگی، لہٰذا ان لوگوں کو بھی ایسے کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

البتہ اگر دن متعین کیے بغیر اتفاقاً گھر والے یا کچھ رشتہ دار از خود جمع ہوگئے اور شرکت نہ کرنے والوں سے کوئی شکوہ بھی نہ ہو، اور قرآن کریم پڑھنے کے بعد کھانے کا وقت ہونے کی وجہ سے گھر میں ہی کھانے کا انتظام ہو تو ایسا کھانا کھانے کی گنجائش ہوگی۔

2 ۔ چوں کہ  ایک غلط رسم کی بنیاد پر پکائے گئے ہیں ؛ لہذا قبول ہی نہ کریں ، احسن طریقے سے واپس کردیں ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے