بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سنیوں کے قبرستان میں شیعہ کی تدفین


سوال

سنیوں کا ایک قبرستان ہے جس کا انتظام کورٹ کی طرف سے ’’جان فاؤنڈیشن‘‘  نامی ایک کمپنی کو سپرد کیا گیا ہے .اس قبرستان میں مسلمانوں کے علاوہ غیر سنی مثلاً شیعہ وغیرہ فرقے  کا کوئی مردہ دفن کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟  اگر مندرجہ بالا کمیٹی اس کی اجازت دیتی ہو تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر شیعہ کے عقائد کفریہ ہوں تو  اُسے سنی مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 159):
"وإن كانت الغلبة للمشركين فإنه لايصلى على الكل، ولكن يغسلون ويكفنون ولكن على وجه غسل موتى المسلمين وتكفينهم، ويدفنون في مقابر المشركين".
 فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

شیعہ کا جنازہ پڑھنے یا پڑھانے کا حکم


فتوی نمبر : 144106200427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے