بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

سنتِ فجر طلوعِ شمس کے بعد کی دلیل


سوال

محمد بن ابراہیم قیس بن عمرو  سے روایت کرتے ہیں، انہوں نےکہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعت پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا نمازِ فجر تو دو رکعت ہے۔ تو  اس نے کہا: میں نے فرض سے پہلے سنت نہیں پڑھی تھی، میں نے انہیں اب پڑھا تو اللہ کے نبی نے سکوت اختیار کیا۔ (ابوداؤد)  اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔

طلوعِ شمس کے بعد سنتِ فجر پڑھنے کے مضبوط دلائل مطلوب ہیں !

جواب

اگر کوئی شخص فجر کی فرض نماز سے پہلے سنتِ فجر نہ ادا کرسکے تو اسی دن سورج طلوع ہونے کے بعد (یعنی اشراق کا وقت داخل ہونے) سے لے کر زوال تک اُسے سنت ادا کرلینی چاہیے، اس کے بعد نہیں پڑھ سکتا۔ طلوعِ شمس کے بعد فجر کی سنتیں ادا کرنے پر ترمذی شریف کی درج ذیل روایت دلالت کرتی ہے: 

"حدثنا عقبة بن مكرم العمي [ البصري ] حدثنا عمرو بن عاصم حدثنا همام عن قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يصل ركعتي الفجر فليصلهما بعد ما تطلع الشمس. قال أبو عيسى: هذا حديث لانعرفه إلا من هذا الوجه، وقد روي عن ابن عمر أنه فعله". (سنن الترمذي، باب ما جاء في إعادتهما بعد طلوع الشمس:۲/۲۲۲،ط: دارالحدیث قاہرہ)
یعنی جو شخص صبح کی دو رکعت نہ پڑھ سکے اسے چاہیے کہ وہ طلوعِ شمس کے بعد پڑھے۔

امام ترمذٰ ی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر ’’تفرد‘‘  کا حکم لگایا ہے اور فرمایا: یہ حدیث  اسی سند سے منقول ہے، اس حدیث پر تفرد کا حکم لگانا درست ہے، لیکن اس سند کے تمام راوی سوائے عمرو بن عاصم کے ثقات ہیں، اور عمروبن عاصم ’’صدوق‘‘  راوی ہیں، لہذا یہ حدیث ’’حسن‘‘  درجہ کی ہے اور قابلِ استدلال ہے، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ عمرو بن عاصم کے بارے میں فرماتے ہیں: "عمرو بن عاصم بن عبید الله الکلابي القیسي، أبوعثمان البصري، صدوق، في حفظه شيء، من صغار التاسعة". (تقریب التهذیب: ۴۵۳، رقم الترجمة:۵۰۵۵، ط: کتب خانہ رشیدیہ پشاور)

امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک میں یہ روایت نقل کرکے اس کی تصحیح کی ہے، اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس حکم میں ان کی موافقت کی ہے، جس سے اس کا درجہ مزید قوی ہوجاتاہے۔

یہ تو سنتِ فجر کے طلوعِ شمس کے بعد ادا کرنے کی دلیل ہوئی، جہاں تک بات ہے فجر کی فرض نماز کے بعد اور سورج طلوع ہونے سے پہلے سنتِ فجر ادا کرنے کی ممانعت کی، اس سلسلے میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت موجود ہے جس میں صبح کی نماز کے بعد طلوعِ شمس سے قبل نفل نماز کی ممانعت منقول ہے۔ چناں چہ بخاری شریف میں ہے:

"حدثنا عبد العزيز بن عبد الله قال: حدثنا إبراهيم بن سعد عن صالح عن ابن شهاب قال: أخبرني عطاء بن يزيد الجندعي أنه سمع أبا سعيد الخدري يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم: "لا صلاة بعد الصبح حتى ترتفع الشمس ولا صلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس". (صحیح البخاري، باب لایتحری الصلاة قبل غروب الشمس: ۱/۲۱۲، ط: دارابن کثیر )

یعنی صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے قبل تک کوئی نماز نہیں اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے سے قبل تک کوئی نماز نہیں ۔

صحیح مسلم میں بھی اس کی طرح کی ایک روایت موجود ہے ، جس سے معلوم ہوا  طلوعِ شمس سے پہلے سنتِ فجر ادا کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے