بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

سنت اور نفل نماز ایک سلام کے ساتھ ادا کرنے کا حکم


سوال

سنن اور نوافل ایک سلام کے ساتھ ادا ہو سکتے ہیں؟

جواب

سنت اور نفل الگ الگ نمازیں ہیں،  اس لیے سنت نماز  کے آخر میں سلام پھیرے بغیر قصداً  نفل کے  لیے کھڑے ہوکر نفل شروع کرنا تو جائز نہیں، البتہ اگر کوئی دو رکعت سنت کے قعدہ میں بیٹھنے کے بعد تشہد پڑھ کر غلطی سے کھڑا ہوجائے اور تیسری رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد اسے یاد آئے کہ اسے تو دو رکعت پر سلام پھیرنا تھا تو وہ چار رکعت پوری کرنے کے بعد آخر میں سجدہ سہو کرلے تو اس کی دو رکعت سنت اور باقی دو نفل بن جائے گی، لیکن جان بوجھ کر ایک سلام کے ساتھ سنت و نفل دونوں کی ادائیگی درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ: سوال کی مراد اگر کچھ اور ہے تو وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیجیے۔


فتوی نمبر : 144106200933

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں