بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو القعدة 1441ھ- 14 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

سنان نام رکھنا


سوال

میں نے اپنے بیٹے کا نام "محمد سنان عبداللہ " رکھا ہے،  جو کہ کسی صحابی کا نام پڑھ کر رکھا تھا،  لیکن اب اس وہم نے آ گھیرا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل کا نام بھی صنان / سنان تھا ،  یہ نام کیسا ہےاور اس کا مطلب یا تاریخ کیا ہے ؟

جواب

"سنان"  عربی زبان کا لفظ ہے، اس کے معنی "نیزہ" کے ہیں، عرب کی عادت تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کو ہیبت میں ڈالنے کے لیے اپنے  بیٹوں کے نام  سنان (نیزہ)، اسد (شیر)، فہد (چیتا) وغیرہ رکھا کرتے تھے،"سنان" نام کے کئی صحابہ کرام گزرے ہیں، علامہ ابن حجررحمہ اللہ ( متوفی 852ھ) نےاپنی کتاب "الاصابة"میں  سنان نامی تقریبا 21 صحابہ کرام  کا تذکرہ کیا ہے، بالفرض حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت میں "سنان"  نامی کوئی  شخص ملوث ہے تو اس سے اس نام میں کسی قسم کی برائی پیدا نہیں ہوئی ،لہذا "سنان" نام رکھنا درست ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143903200069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں