بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

سردی سے بچاؤ کے لیے سوئی گیس کے چولہوں کے سامنے نماز ادا کرنا


سوال

سردی میں مسجد کے اندر زیادہ تر پہلے صف کے آگے سوئی گیس کے چولہے رکھے ہوتے ہیں، جس سے آگ یا شعلے نکلتے ہیں مسجد کو گرم کرنے کے لیے، تو کیا اس حالت میں نماز ادا ہو جاتی ہے ؟

جواب

مسجد میں سردی سے بچاؤ کے لیے سوئی گیس یا گیس ہیٹر جلانے کی بہتر صورت یہ ہے کہ قبلہ کی جانب ہیٹر یا چولہا جلانے سے احتراز کیا جائے، یا پھر  ایسی صورت اختیار کی جائے کہ نمازی کے کھڑے ہونے کی حالت میں ہیٹر یا چولہا اس  کے قد سے بلند  ہو۔لیکن اگرقبلہ رخ ہیٹر لگاہو اور نماز پڑھ لی جائے تو نمازادا  ہوجائے گی، کیوں کہ یہاں آگ  کی عبادت اور اس کے سامنے جھکنا مقصود نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية - (3 / 408):
"وَمَنْ تَوَجَّهَ فِي صَلَاتِهِ إلَى تَنُّورٍ فِيهِ نَارٌ تَتَوَقَّدُ أَوْ كَانُونٍ فِيهِ نَارٌ يُكْرَهُ، وَلَوْ تَوَجَّهَ إلَى قِنْدِيلٍ أَوْ إلَى سِرَاجٍ لَمْ يُكْرَهْ ، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ، وَهُوَ الْأَصَحُّ" .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 651):
"(و) لا إلى (مصحف أو سيف مطلقا أو شمع أو سراج أو نار توقد) ، لأن المجوس إنما تعبد الجمر لا النار الموقدة قنية.

(قوله: لأن المجوس إلخ) علة للثلاثة قبله ط (قوله قنية) ذكر ذلك في القنية في كتاب الكراهية.
ونصه: الصحيح أنه لايكره أن يصلي وبين يديه شمع أو سراج لأنه لم يعبدهما أحد والمجوس يعبدون الجمر لا النار الموقدة، حتى قيل: لايكره إلى النار الموقدة. اهـ. وظاهره أن المراد بالموقدة التي لها لهب، لكن قال في العناية: أن بعضهم قال: تكره إلى شمع أو سراج كما لو كان بين يديه كانون فيه جمر أو نار موقدة. اهـ. وظاهره أن الكراهة في الموقدة متفق عليها كما في الجمر، تأمل". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200459

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے