بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

 سدیس، سدیسا، شیث کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟


سوال

’’سدیس‘‘، ’’سدیسا‘‘، ’’شیث‘‘  کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

’’سَدِيْس‘‘ کا معنیٰ ہے: کسی چیز کا چھٹا حصہ، چھ سے مرکب، چھ اجزا والا، چھ سالہ بکری۔   ’’سُدَيْس‘‘، کا معنیٰ ہے: کسی چیز کا چھٹا حصہ۔ 

سدیس، سدیسا نام رکھنا مناسب نہیں۔  شیث ایک نبی کا نام ہے اس مناسبت یہ نام رکھنا جائز ہے۔

 

المعجم: الرائد:
1 - سَدِيْس: جزء من ستة أجزاء . 2 - سديس : مركب من ستة . 3 - سديس : ذو ستة . 4 - سديس : شاة أتت عليها السنة السادسة". 
فقط واللہ اعلم

نوٹ: تحقیق کرنے پر بعض ذرائع سے معلوم ہواہے کہ امامِ کعبہ شیخ عبدالرحمٰن السدیس حفظہ اللہ کے نام میں ’’سدیس‘‘ کا جز  عرب کے کسی قبیلے کی نسبت سے ہے۔


فتوی نمبر : 144106201194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں