بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

سجدہ میں پاؤں اٹھ جانا


سوال

سجدے میں پاؤں کے اٹھ جانے سے کیا نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

جواب

پورے سجدے میں اگر پاؤ ں کی ایک بھی انگلی زمین پر نہیں رکھی ہو تو سجدہ ادا نہ ہونے کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی۔ اگر سجدہ میں ایک تسبیح کی مقدار بھی پاؤں زمین پر رکھ لیا ہو (چاہے ایک انگلی ہی زمین پر رکھ لی ہو) تو پھر اس سجدہ میں پاؤں اٹھ جانے کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ ایسا کرنا (یعنی سجدے میں کچھ دیر پاؤں زمین پر رکھنا اور کچھ دیر بلاعذر اٹھالینا)  مکروہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 447):
"(قوله: وقدميه) يجب إسقاطه؛ لأن وضع إصبع واحدة منهما يكفي كما ذكره بعد ح. وأفاد أنه لو لم يضع شيئًا من القدمين لم يصح السجود، وهو مقتضى ما قدمناه آنفًا عن البحر".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200422

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے