بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

سبقتِ لسانی اور غلطی سے کفریہ کلمات زبان سے نکل جاتا


سوال

اپنے دوست کو اللہ کا بندہ کہنا تھا اور غلطی سے اللہ کا بھائی کہہ دیا اور فوراً  توبہ کرلی تو کیا توبہ قبول ہوگئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  دوست کو اللہ کا بندہ  کہتے ہوئے سبقتِ لسانی میں غلطی سے منہ سے اللہ کا بھائی نکل جائے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، البتہ توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

الفتاوى الهندية (2/ 276):
"الخاطئ إذا أجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً بأن كان يريد أن يتكلم بما ليس بكفر فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً لم يكن ذلك كفرًا عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 247):
"وما كان خطأً من الألفاظ ولايوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولايؤمر بتجديد النكاح، ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200676

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں