بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ساڑھے تین تولہ سونا اور دس بارہ ہزار نقد رقم کی صورت میں زکاۃ اور قربانی کا حکم


سوال

ہماری ایک بہن کے پاس ساڑھے تین تولے سونا ہے، اس پر زکاۃ ہوگی کہ نہیں؟ اور قربانی کے کیا احکامات ہیں؟  اور دس بارہ ہزار روپے کی نقد رقم بھی ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں چوں کہ آپ کی بہن کے پاس ساڑھے تین تولہ سونے کے ساتھ  دس بارہ ہزار نقد رقم بھی بچت میں موجود ہے تو  ان دونوں کی مجموعی مالیت کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہوگا۔

لہذا  آپ کی بہن پر اگر کوئی قرض یا دیگر واجب الاداء دین ذمہ میں ہو تو اس کو منہا کرنے کے بعد اس کے پاس اپنے ملکیتی سونے اور  نقد رقم کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ بچتی ہو تو  سال گزرنے پر اس مالیت کی ڈھائی فی صد زکاۃ  ادا کرنا لازم ہوگا۔

اور عید الاضحی کے تین دنوں میں اگر یہ رقم یا اس سے زیادہ ملکیت میں موجود ہوئی تو اس پر قربانی بھی واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200583

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے