بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1441ھ- 06 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

سال گرہ منانا


سوال

سال گرہ  اسلام میں جائز ہے یا نہیں?

جواب

سال گرہ منانے کی رسم، مغربی رسم ہے،  جوچلتے چلتے مسلمانوں میں رواج پذیر ہوگئی، اوراب بعض مسلمان اس رسم کومنانے کا اہتمام اور اس کے لیے باقاعدہ ناجائز امور پر مشتمل محافل منعقد کرتے ہیں، اس لیے سال گرہ  کی ایسی تقریب جو ناجائز امور پر مشتمل ہو تو وہ بھی ناجائز ہوگی۔

  تاہم اگر سال گرہ منانے میں خرافات اور ناجائز امور سے اجتناب کیا جائے اور  بطورِ شکرانہ یا ایک تاریخی یادگار  کی تقریب کے طور پر اعزہ  و اقرباء  جمع  ہوجائیں تو فی نفسہ اس کی گنجائش ہے۔

کفایت المفتی میں ہے :

’’یادگار سار (عمر) کے لیے ڈورے میں گرہ باندھنا، بکرے ذبح کرنا، مہمان داری کرنا۔

(جواب) سال گرہ منانا کوئی شرعی تقریب نہیں ہے،  ایک حساب اور تاریخ کی یادگار ہے،  اس کے لیے یہ تمام فضولیات محض عبث اور التزام مالایلتزم میں داخل ہیں‘‘۔ (۹ / ۸۴، دار الاشاعت) فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر ہمارے ادارے کا فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

سالگرہ منانا اور تشبہ بالکفار کی حقیقت


فتوی نمبر : 144104200291

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں