بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ساس اور بہو کے درمیان لڑائی مٹانے کے لیے کوئی نسخہ


سوال

ساس اور بہو کے درمیان لڑائی مٹانے کے  لیے کچھ نسخہ  بتادیں!

جواب

فجر  کی نماز کے بعد سورہ یٰس پڑھ کر سو (۱۰۰) مرتبہ ’’یا عزیز‘‘ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔

نیز جب بھی دو فریقین میں اختلاف یا لڑائی ہو تو ان کے درمیان صلح و صفائی کا سب سے کامیاب نسخہ یہ ہے کہ ہر ایک کے سامنے دوسرے کی غیر موجودگی میں اس طرح کی بات کی جائے جس سے اس کے دل میں دوسرے فریق کی قدر  اور محبت پیدا ہو، مثلاً: یوں کہہ دیا جائے کہ وہ تو آپ کے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتی ہے، وہ تو دل سے آپ کو چاہتی ہے، وہ تو آپ کا احترام اور قدر کرتی ہے، وغیرہ۔ جب دونوں کے سامنے ایسی باتیں کی جائیں گی تو ان کی دل میں ایک دوسرے کے لیے جگہ پیدا ہوگی، اور جب دلوں میں معمولی سی نرمی دیکھے تو حکمت کے ساتھ موقع دیکھ کر جانبین سے تحفہ دینے کی کوئی ترتیب بنالے، اس سے دل مزید صاف ہوجاتے ہیں،  حدیث پاک میں جو شخص دو فریقین کے درمیان صلح و اصلاح کے لیے خلافِ حقیقت بات کرے تو وہ جھوٹا نہیں ہے۔ نیز باہم تحائف کا تبادلہ بھی محبتیں بڑھاتاہے، یہ سب نبوی نسخے ہیں، ان کو اپنایا جائے تو امید ہے کہ اختلافات ختم ورنہ کم سے کم ہوجائیں گے۔

اس کے برعکس اگر ہر ایک کے سامنے دوسرے کی برائی یا ہر ایک کے منہ پر اس کی حمایت اور اس کی طرف داری کی جائے گی تو وہ اپنی غلطی پر اتنی ہی پختہ ہوگی اور مزید نفرتیں اور دوریاں پیدا ہوں گی۔

اگر سائل بحیثیت شوہر اس پریشانی کا شکار ہے، تو مذکورہ تدبیر کے ساتھ ساتھ  والدہ کی خدمت وغیرہ کے لیے کچھ وقت ضرور نکالے، اور اہلیہ کو تنہائی میں سمجھا دے کہ میری دلی توجہ مکمل تمہاری طرف ہی ہے، البتہ والدہ کا حق ہے، نیز ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کے خلاف ہوجائیں یا کچھ سوچیں یا بد دعا دیں تو میں ان کو کچھ وقت دے کر ان کی دعائیں لے لوں، اس سے مجھے اور میری نسلوں کا ہی فائدہ ہے۔

در اصل کچھ معاملات انسانی نفسیات اور فطرت سے بھی تعلق رکھتے ہیں، مائیں اپنے بچوں کو بہت چاہ اور لاڈ سے پالتی ہیں، لڑکوں سے بے پناہ محبت کرتی ہیں، اور لڑکے ان کے بڑھاپے کا آسرا اور سہارا ہوتے ہیں،  اور شادی سے پہلے تک چوں کہ بیٹے کا (تعلیم و ملازمت سے زائد اضافی) وقت والدہ کے ساتھ گزرتاہے تو انہیں نفسیاتی طور پر اطمینان ہوتاہے، لیکن شادی کے بعد فطری طور پر بیٹے کا وقت بیوی بچوں اور سسرالی حقوق کی ادائیگی میں جب صرف ہوتاہے، تو ماں کو بیٹا دور ہوتے محسوس ہوتاہے، یہ فطرت کا حصہ ہے، اگر اس موقع پر انسان نفسیات کو سمجھ جائے اور صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمت کی راہ اختیار کرے تو مسائل جلد حل ہوجاتے ہیں،   ورنہ یہ اختلافات کسی ایک فریق سے دوری اختیار کرنے پر منتج ہوتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201930

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں