بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سابق وطنِ اصلی میں نماز قصر یا اتمام کرنے کا حکم


سوال

میں کئی سالوں سے یہاں برطانیہ میں مقیم ہوں،  یہیں مستقل رہائش پذیر ہوں، پاس پورٹ بھی بریٹش ہے،  لیکن انڈیا میں بھی گھر ہے، ماں بھائی کچھ جائیداد ہے،  سال دو سال میں ایک مرتبہ سترہ یا بیس بائیس دن کے لیے جاتا ہوں اور میں وہاں تھوڑا شاپنگ کرنے یا رشتے داروں  کو ملنے ادھر ادھر بھی جاتا ہوں، اب میں وہاں اپنے گھر جاکر قصر پڑھوں یا پوری نماز؟

جواب

اگر ہندوستان کو چھوڑ کر بیوی بچوں سمیت مستقل برطانیہ منتقل ہوگئے ہیں اور اب دوبارہ مستقل رہائش کے لیے ہندوستان جانے کا ارادہ نہیں ہے تو جب پندرہ دن سے کم مدت کے لیے ہندوستان جائیں گے تو قصر کریں گے اور پندرہ دن یا اس سے زائد ایام کے ارادے سے جائیں گے تو پوری نماز پڑھیں گے۔

اور اگر ہندوستان سے رہائش مستقل ختم کرنے کی نیت نہیں کی تھی، بلکہ جائیداد رکھنے کا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان بھی وطن رہے اور برطانیہ میں بھی وطن ہو، یامستقبل میں دوبارہ برطانیہ سےہندوستان مستقل رہائش کے لیے آنے کا ارادہ ہو تو ہندوستان میں بھی پوری نماز پڑھیں گے خواہ پندرہ دن سے کم کے لیے آناہو۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200442

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے