بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زیور کی گزشتہ سالوں کی زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ


سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام، مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

میری والدہ فوت ہوچکی ہیں، جن کے پاس 4 تولے سونا اور کچھ نقدی بھی تھی اور تقریباً 30 سال سے انہوں نے زکاۃ ادا نہیں کی اورہم ورثاء ان  کے سونے سے زکاۃ دینا چاہتے ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ اس موجودہ سونے پر زکاۃ دینا واجب ہے یا نہیں؟ اگر دینا واجب ہے تو ان 30 سالوں کی زکاۃ دینے کی کیا صورت ہوگی؟ نیز 30 سال پہلے سونے کی قیمت بہت کم تھی بہ نسبت آج کے اور ہر سال قیمت میں اضافہ اور کم ہوناہوتا رہا، یہاں تک کہ اب تقریباً 90000 ہزار تک پہنچ چکی ہےتو اب سوال یہ ہے کہ کیا زکاۃ ہر سال کے اعتبار سے جو اس وقت نرخ تھا دی جائے گی یا اب آج اسی وقت کے اعتبار سے آج ہی کی قیمت کااندازا لگاکر کل سالوں کی زکاۃ دی جائے گی؟

نیز ان تمام سالوں کی قیمتِ فروخت کا صحیح اندازا  لگانا مشکل ہے تو  اگر قیمتِ خرید کے اعتبار سے زکاۃ دی جائے تو اس میں کیاکچھ حرج تو نہیں ہوگا ؛ کیوں کہ میری والدہ کے ترکہ میں میرے بہن بھائیوں کا بھی حق ہے تو اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ناراض ہو قیمتِ خرید کے اعتبار سے زکاۃ دینے پر تو پھر کیا صورت ہوگی زکاۃ دینے کی؟ یا موجودہ صورت میں زکاۃ دینے کی کوئی اور صورت ہو تو براہِ کرم مسئلہ کی وضاحت فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل کی والدہ نے اپنے زیور کی زکاۃ ادا کرنے کی وصیت نہیں کی تھی، لہٰذا شرعاً ورثاء پر ان کے زیور کی زکاۃ ادا کرنا واجب نہیں، البتہ اگر تمام ورثاء (بشرطیکہ سب عاقل بالغ ہوں) زکاۃ ادا کرنے پر راضی ہیں تو مرحومہ کے ترکہ سے یا کوئی وارث اپنی طرف سے مرحولہ کے زیور کی زکاۃ ادا کردے تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا، اور اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھنی چاہیے۔

اور جس وقت زکاۃ ادا کی جائے تو اس وقت سونے کی قیمتِ فروخت کے اعتبار سے گزشتہ سالوں کی زکاۃ ادا کی جائے۔ اس طرح سے کہ ہر سال مالِ زکاۃ کی رقم متعین کرکے ڈھائی فیصد زکاۃ نکالے، آئندہ سال کی زکاۃ نکالتے وقت سابقہ سال کی زکاۃ کو منہا کیا جائے، نیز اس طرح سے زکاۃ نکالتے نکالتے جب نقدی ختم ہوجائے یا نقدی اور زیورات کی مجموعی مالیت مقدارِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) سے کم ہوجائے تو اس کے بعد کے سالوں کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

"إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته ستين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة، وعند زفر يؤدي زكاة سنتين، وكذا هذا في مال التجارة". (2/7، ط: سعيد)

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"في الجوهرة: إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجبروا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث." (2/359، ط: سعيد)

وفي الدر المختار:

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يومَ الأداءَ وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد التي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح".  (رد المحتار 2/286 كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012201534

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں