بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1441ھ- 13 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

زیرِ ناف بال کی حد


سوال

زیر ناف بالوں کی حد کیا ہے؟ نیز  اس کا طریقہ وضاحت سے بتا دیں۔

جواب

ناف کے نیچے سے رانوں کی جڑوں تک، اورپیشاب پاخانہ کی جگہ کے اردگرد جہاں تک نجاست لگنے کا امکان ہو ، مردوں کے لیے زیر ناف بال استرے وغیرہ سے صاف کرنا اور عورتوں کے لیے اکھاڑنا بہتر ہے، اگرچہ عورتوں کے لیے استرے کا استعمال بھی درست ہے، لیکن بہتر نہیں۔

'' ويبتدئ في حلق العانة من تحت السرة، ولو عالج بالنورة في العانة يجوز، كذا في الغرائب''. (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهیة، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها (5/358)

""وأما الاستحداد فهو حلق العانة سمي استحداداً؛ لاستعمال الحديدة وهي الموسى، وهو سنة، والمراد به نظافة ذلك الموضع، والأفضل فيه الحلق، ويجوز بالقص والنتف والنورة، والمراد بالعانة: الشعر الذي فوق ذكر الرجل وحواليه وكذاك الشعر الذي حوالي فرج المرأة''۔ (شرح النووي علی مسلم، کتاب الطهارة، باب خصال الفطرة (3/148) ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

''والعانة: الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة، ومثلها شعر الدبر، بل هو أولى بالإزالة ؛ لئلا يتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر''۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام و صفة المفرد (2/481) ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200534

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں