بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الثانی 1448ھ 11 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیرِ استعمال کثیر جوڑے نصابِ قربانی میں شمار ہوں گے؟

سوال

اگر کسی عورت کے پاس 10 ہزار سے 30 ہزار تک کی قیمت کے 10 سے 15 جوڑے ہوں اور وہ ان کے زیرِ استعمال ہوں، اور اگر اس کے پاس سونا ہو یا سونا نہ ہو دونوں صورتوں میں اس پر قربانی کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

جو شخص مال دار صاحبِ نصاب ہے، یا عید الاضحیٰ کے دنوں میں اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا مال (سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت) یا ضرورت سے زائد اتنی چیز یں ہیں کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، تو اس پر قربانی واجب ہے، اور اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے ایک حصہ قربانی کرے۔ اور استعمال کے کپڑے ضرورت میں داخل ہیں، خواہ وہ کتنے ہی قیمتی ہوں۔

لہذا مذکورہ عورت کے زیرِ استعمال دس سے تیس ہزار مالیت کے جو جوڑے ہیں انہیں قربانی کے نصاب میں شمار نہیں کیا جائے گا۔  اس کے علاوہ اوپر ذکر کیا گیا قربانی کا نصاب مکمل ہو تو قربانی واجب ہوگی ورنہ نہیں۔

الدر المختار مع الشامیة:

"وشرائطها الإسلام والإقامة والیسار الذي یتعلق به وجوب صدقة الفطر لا الذکور فتجب علی الأنثیٰ".

وفي الشامية:"قوله: (الیسار) بأن ملک مأتي درهم أو عرضاً یساویها غیر مسکنة ... یحتاجه إلی أن یذبح الأضحیة". (۹/۳۷۹ ، کتاب الأضحیة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200238
تاریخ09-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں