بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زیادہ ایڈوانس پر گھر کرائے پر دینا


سوال

 heavy deposit پر گھر کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی کوئی صورت بتائیں، اس لیے کہ اس میں ابتلاءِ عام ہے۔

جواب

ایڈوانس زیادہ جمع کرانے کی صورت میں مروجہ کرایہ میں کمی کرنا سود کی اقسام میں سے ایک قسم ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے؛  اس لیے کہ ایڈوانس رقم درحقیقت مالکِ  مکان کے ذمہ قرض ہوتی ہے اور قرض کے عوض میں کسی قسم کا مشروط نفع اٹھانا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے، لہذا اس طرح عقد نہ کیا جائے۔ جواز کی صورت یہی ہے کہ عام معروف طریقے سے کرایہ داری یا خرید وفروخت کا معاملہ کیا جائے 

النتف فی الفتاوی میں ہے:

’’أنواع الربا: وأما الربا فهو علی ثلاثة أوجه:أحدها في القروض، والثاني في الدیون، والثالث في الرهون. الربا في القروض: فأما في القروض فهو علی وجهین:أحدهما أن یقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها. والآخر أن یجر إلی نفسه منفعةً بذلک القرض، أو تجر إلیه وهو أن یبیعه المستقرض شيئا بأرخص مما یباع أو یوٴجره أو یهبه…، ولو لم یکن سبب ذلک (هذا ) القرض لما کان (ذلک )الفعل، فإن ذلک رباً، وعلی ذلک قول إبراهیم النخعي: کل دین جر منفعةً لا خیر فیه.‘‘ (النتف في الفتاوی ، ص: ٤٨٤، ٤٨٥)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے