بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم مدرسہ کی تعمیرات میں لگانے کا حکم


سوال

میرا بھائی خود مستحق زکاۃ  نہیں ہے اور وہ مدرسے کا مالک ہے اور اس کے مدرسے میں تعمیراتی کام جاری ہے، جس  کے لیے اسے رقم کی ضرورت ہے تو کیا میں اپنی زکاۃ  اسے مدرسے کی تعمیر  کے لیے  دے سکتا ہوں؟  اور اگر نہیں دے سکتا ہوں تو کوئی طریقہ ہے جس سے میں اپنی زکاۃ  اسے دے سکوں؟

جواب

زکاۃ  کی رقم میں کسی غریب مسلمان کو مالک بنانا شرط ہے؛  اس لیے زکاۃ  کی رقم مدرسہ کی تعمیرات میں لگانا جائز نہیں ہے۔ اگر آپ کے بھائی کے مدرسے میں زکاۃ کے مستحق طلبہ موجود ہیں تو آپ زکاۃ کی رقم اس مدرسے میں جمع کروا سکتے ہیں، لیکن ضروری ہوگا کہ زکاۃ کی رقم انہی مستحق طلبہ پر صرف کی جائے، تعمیر میں استعمال نہ کی جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201832

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں