بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی میں موجودہ قیمت کا اعتبار ہے


سوال

گزشتہ پانچ سالوں سے میں نے اپنی اہلیہ کے زیورات کی زکات  نہیں ادا کی،  اب جب پانچ سال بعد میں اکٹھی ان کی زکات دینا چاہتا ہوں تو کیا اس پرانی قیمت کا اعتبار ہوگا یا فی زمانہ جو ابھی موجودہ قیمت ہے اس کا اعتبار ہوگا ؟

جواب

اگر گزشتہ سالوں کی زکات ادا نہیں کی تو جس دن زکات ادا کی جائےاس دن کی جو قیمت ہے، اس قیمت کا اعتبار ہو گا، یعنی گزشتہ سالوں کی زکات موجودہ ریٹ کے حساب سے ادا کی جائے گی۔اور زکات یوں اداکریں گے کہ: مثلاً دولاکھ روپے سونے کی مالیت ہے تو پہلے سال کی پانچ ہزارزکات  اداکردیں،  پھر اگلے سال ایک لاکھ پچانوے ہزار روپے کی اداکریں، اسی طرح بقیہ سالوں کی زکات اداکریں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 22):

"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200447

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے