بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

دوسرے شہر میں زکاۃ وصول کرنے کا وکیل بنانا


سوال

کیا کوئی زکاۃ کا مستحق بندہ کسی دوسرے شہر میں کسی کو  زکاۃ وصول کرنے کے لیے اپنا وکیل بنا سکتا ہے؟

جواب

اگر ایک شخص مستحقِ زکاۃ ہو اور اس کو  زکاۃ دینے کا ارادہ رکھنے والا کسی دوسرے شہر میں ہو تو مستحقِ زکاۃ کے لیے جائز ہے کہ وہ اُس شہر میں کسی آدمی کو  زکاۃ وصول کرنے کے لیے وکیل بنا دے، پھر وکیل زکاۃ پر قبضہ کر کے مستحق تک پہنچا دے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے