بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ اور حج سے متعلق سوال


سوال

1. اگر پانچ لاکھ روپے بینک میں جمع ہوں،  اور ایک سال سے پہلے کچھ رقم نکال لی جائے تو بچنے والی رقم پر ایک سال پورا ہونے پر زکاۃ ادا کرنا ہو گی؟

2. اگر ہم رقم کو محفوظ کرنے کے  لیے نیشنل سیونگ انویسٹمنٹ میں انویسٹ کر دیں دو سال کے لیے اور اس کا جو منافع آئے وہ خرچ کرتے رہیں اور پھر اصل رقم نکال کر حج پر چلے جائیں تو یہ عمل درست ہے یا نہیں؟ 

3. سال بھر  پندرہ لاکھ  کی رقم بینک میں رکھی ہو تو اس پر کتنی زکاۃ لازم ہو گی؟

جواب

1. اگر پانچ لاکھ میں سے کچھ رقم بینک سے نکال لی جائے اور بقیہ رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم کے برابر یا اس سے زیادہ مالیت کی ہو تو سال پورا ہونے پر اس پر  زکاۃ لازم ہو گی، بصورتِ دیگر اگر اس رقم کے علاوہ کوئی اور مالِ نامی (سونا، چاندی، رقم یا مالِ تجارت) موجود نہ ہو تو زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔

2. نیشنل سیونگ انویسٹمنٹ میں رقم انویسٹ کرنا جائز نہیں ہے؛ لہٰذا اس کا منافع استعمال کرنا بھی جائز نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کیا تو گناہ کیا، تاہم اصل رقم سے حج کرلیا تو حج ادا ہوگیا، اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ حج کا ثواب بھی عطا فرمائیں گے، لیکن جتنی رقم ناجائز استعمال کی ہے اس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار لازم ہے۔ تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کردہ رقم کے بقدر حلال مال سے صدقہ نکال دینا چاہیے۔

3.  پندرہ لاکھ روپے کی زکاۃ 37500 روپے ادا کرنا لازم ہو گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے