بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ سے متعلق متفرق سوالات


سوال

1-  میری بیوی کے پاس ہمارے گھر کا اور اس کا اپنا سونا تقریباً 5 تولہ ہے۔ ہمارے گھر والوں نے تقریباً ڈیڑھ تولہ سونا شادی پر بیوی کو دیا تھا، جو کہ میری بیوی کی ہی ملک میں ہے، لیکن گھر والے باتوں باتوں میں اس ڈیڑھ تولہ سونا پر حقِ ملکیت جتاتے نظر آتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے اس ڈیڑھ تولہ سونا کا اصل مالک کون ہے تاکہ زکاۃ کا تعین کیا جا سکے؟

2-  میں بیوی کو گھر میں اور بچوں پر خرچ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً کچھ پیسے دیتا رہتا ہوں، کیا بیوی کے مالِ نصاب میں یہ پیسے بھی داخل ہوں گے؟

3-  میری بیوی کو اکثر اس کی امی خرچ کرنے کے لیے پیسے دیتی رہتی ہیں، چوں کہ ان پیسوں کی وہ خود مالکہ ہے، لہذٰا کم از کم کتنی رقم اس کے پاس ہو تو اس کا نصاب سونا اور نقدی کل ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر بنےگا؟

4-  میری بیوی کی ملک میں تھوڑی سی چاندی بھی تھی جو اس نے دو سالہ بیٹی کو ہبہ کر دی تھی، کیا یہ ٹھیک ہے؟

5-  جب سے میں نے روزگار کمانا شروع کیا تھا اس کی اسلامی تاریخ یاد نہیں تو پھر اب سال پورے ہونے کا تعین کیسے کیا جائے؟

6- اگر میرے پاس ساڑھے سات تولہ سے کم سونا موجود ہو تو کتنی نقدی مجھے سونا اور نقدی کو کل ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب سے زکاۃ دینے والا بنا دے گی؟کیوں کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ پیسے گھر میں ہوتے ہی ہیں، گھر کا سودا سلف لانے کے لیے دو سو یا تین سو روپے، چھوٹے بچوں کے پاس دس بیس روپے، ایسی معمولی رقم جو بچوں نے گھر میں پھینک دی ہو اور نظر میں نہ ہو۔ اور نہیں تو بنک اکاؤنٹ میں 500 سے کم رقم جو اے ٹی ایم سے نہ نکلے۔ یا پھر بیوی بچوں یا امی ابو کی دوا کے لیے یا کپڑے جوتوں کے لیے مختص 5 یا 6 ہزار کی رقم۔

برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کم از کم کتنی رقم سال ختم ہونے پر موجود ہو کہ پھر جس کی زکاۃ کا تعین سونا اور نقدی ملا کر ساڈھے باون تولہ چاندی کے نصاب کے برابر ہوگا؟

جواب

1۔ صورتِ  مسئولہ میں شادی کے موقع پر ڈیڑھ تولہ سونا آپ کی بیوی کو دیتے ہوئے اگر آپ کے گھر والوں نے اس بات کی صراحت کی تھی کہ یہ سونا ہماری ملکیت ہے، ہم فقط استعمال کے لیے دے رہے ہیں تو اس صورت میں اس سونے پر آپ کی بیوی کی ملکیت نہ ہوگی، اور اس سونے کی زکاۃ ادا کرنا بھی آپ کی بیوی پر لازم نہ ہوگا، تاہم اگر دیتے وقت گفٹ و تحفہ کی صراحت کی گئی تھی تو اس صورت میں مذکورہ سونا شرعاً  آپ کی بیوی کی ملکیت شمار ہوگا، اور اس کی زکاۃ بھی آپ کی بیوی پر لازم ہوگی، اور گھر والوں کی جانب سے اس سونے پر حق جتلانا از روئے قرآن و حدیث انتہائی قبیح عمل شمار ہوگا، اور اگر دیتے وقت کسی بات کی صراحت نہ کی ہو تو اس صورت میں لڑکے کے خاندان کا عرف دیکھا جائے گا کہ اس کے خاندان میں شادی کے موقع پر بطورِ تحفہ دینے کا رواج ہے، یا بطورِ عاریہ ( فقط استعمال کے لیے) دینے کا رواج ہے، اگر تحفہ کے طور پر دینے کا رواج ہو تو اس صورت میں یہ سونا دولہن کی ملکیت شمار ہوگا اور اس کی زکاۃ بھی اسی پر لازم ہوگی، اور اگر بطورِ عاریہ دینے کا رواج ہو تو یہ سونا دولہن کی ملکیت نہیں ہوگا اور اس کی زکاۃ بھی اس پر لازم نہ ہوگی، اور اگر کوئی رواج ہی نہ ہو تو عرفِ عام کا اعتبار کرتے ہوئے مذکورہ سونا دولہن کی ملکیت شمار کیا جائے گا اور زکاۃ بھی اسی کے ذمہ آئے گی۔

2۔  جو پیسے آپ بیوی کو دیتے ہیں ان پیسوں میں سے جو بنیادی ضرورت میں استعمال ہوجاتے ہوں ان سے زائد جتنے بھی پیسے ہوں جس تاریخ میں بھی آپ کے اہلیہ کے پاس وہ بچت میں آگئے ہوں اسی دن سے زکاۃ کے نصاب کا سال شروع سمجھا جائے گا، پھر نصاب کے سال کی تکمیل کے دن بھی ضرورت کے خرچے سے زائد کچھ بھی رقم موجود ہو تو کل موجودہ ملکیت کی مالیت کا حساب کرکے کل کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ البتہ جو پیسے آپ  بچوں (نابالغ) کے لیےنامزد کرکے دیتے ہیں وہ بچوں کی ملکیت ہوجائیں گے اور ان پر زکاۃ لازم نہ ہوگی۔

3۔ زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر بنیادی ضرورت کے خرچ سے زائد کچھ بھی نقدی خواہ چند روپوں کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو اسے کل نصاب میں شامل کیا جائے گا۔

4۔  بچی کو چاندی کا ہبہ کرنا درست ہے، اور جو چاندی بچی کو ہبہ کردی اس پر زکاۃ واجب نہیں۔

5۔  اگر شمسی تاریخمتعینہ طور پر آپ کو معلوم ہے تو قمری تاریخ بھی متعینہ طور پر معلوم کی جاسکتی ہے، اور اگر تاریخ متعینہ طور پر معلوم نہ ہو تو اندازا کرکے غالب گمان کے مطابق متعین کرلیں۔

6۔ سونا ساڑھے سات تولہ  سے کم ہو تو اس کے ساتھ  کچھ بھی نقدی (چند روپوں کی  شکل میں ہی کیوں نہ ہو وہ) مل کر اگر اس مجموعے کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے تو زکاۃ واجب ہوجائے گی، البتہ اس رقم کا اعتبار کیا جائے گا جو بنیادی ضرورت اور اخراجات سے زائد ہو، ماہانہ راشن، یوٹیلیٹی، علاج معالجہ انسان کی بنیادی ضروریات میں داخل ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے