بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ اور صدقات سے کتابوں کی خریداری کا حکم


سوال

کیا زکات اور صدقات کے مال سے دینی کتب کی خریداری ہو سکتی ہے؟ 

جواب

زکات وصدقات  کے مال سے دینی کتب خریدی تو جا سکتی ہیں، البتہ زکات اور دیگر واجب صدقات کی مد سے خریداری کی صورت میں ان کتب کا مصرف بھی وہی ہوگا، جو زکات اور واجب صدقات کا ہے، یعنی مستحقِ زکات افراد کو مالک بناکر دے دی جائیں، البتہ نفلی صدقےسے خریدی گئی کتاب مصارفِ زکات کے علاوہ بھی کسی کو دی جاسکتی ہے۔ 

"(قوله: تمليكًا) فلايكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناوياً الزكاة لاتكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لايصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ، كما في المحيط قهستاني. وتقدم تمام الكلام على ذلك أول الزكاة".[الرد مع الدر: ٢/  ٣٤٤] فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200775

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے