بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کا اولین مستحق


سوال

زکاۃ  کا  پہلا حق کس کا ہے؟ پہلےاپنے خاندان سے شروع کریں؟

جواب

زکات  اور ہر طرح کے صدقات میں افضل یہ ہے کہ اگر اپنے رشتہ داروں میں  کوئی ضرورت مند اور مستحقِ زکات ہو تو اسی کو پہلے زکات دی جائے، کیوں کہ غریب و مستحق رشتہ داروں کو زکات دینے سے دہرا اجر ملتا ہے، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا، ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص کے رشتہ داروں میں کوئی ضرورت مند ہو اور وہ کسی اور کو صدقہ دے دے تو اللہ تعالیٰ اس کا صدقہ قبول نہیں فرماتے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظرِ رحمت بھی نہیں فرمائیں گے۔اسی طرح اپنے شہر کے مستحقِ زکات غرباء کا حق دوسرے شہر کے غرباء سے مقدم ہے۔

فقہاء نے لکھا ہے کہ سب سے پہلا حق بھائی بہنوں کا ہے، پھر بھائی بہنوں کی اولاد کا ہے، اس کے بعد چچاؤں اور پھوپھیوں کا، پھر ماموں اور خالاؤں کا، اس کے بعد دیگر رشتہ داروں کا حق ہے، اس کے بعد پڑوسیوں کا، پھر محلہ والوں کا اور پھر اپنے شہر والوں کا حق ہے،  الا یہ کہ اپنے محلے یا شہر والوں کے مقابلے میں کوئی اور زیادہ محتاج ہو یا ان سے زیادہ کسی اور مصرف میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو، یا دوسری جگہ خرچ کرنا مسلمانوں کے لیے زیادہ نافع ہو، مثلاً کسی جگہ دینی تعلیم اسی تعاون پر موقوف ہو اور تعاون نہ کرنے کی صورت میں اشاعتِ دین کا سلسلہ رک جائے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 353):

"(و) كره (نقلها إلا إلى قرابة) بل في الظهيرية لاتقبل صدقة الرجل وقرابته محاويج حتى يبدأ بهم فيسد حاجتهم (أو أحوج) أو أصلح أو أورع أو أنفع للمسلمين (أو من دار الحرب إلى دار الإسلام أو إلى طالب علم) وفي المعراج التصدق على العالم الفقير أفضل (أو إلى الزهاد أو كانت معجلة) قبل تمام الحول فلا يكره خلاصة.

(قوله: وكره نقلها) أي من بلد إلى بلد آخر؛ لأن فيه رعاية حق الجوار فكان أولى زيلعي والمتبادر منه أن الكراهة تنزيهية تأمل، فلو نقلها جاز؛ لأن المصرف مطلق الفقراء درر، ويعتبر في الزكاة مكان المال في الروايات كلها واختلف في صدقة الفطر كما يأتي (قوله: بل في الظهيرية إلخ) إضراب انتقالي عن عدم كراهة نقلها إلى القرابة إلى تعيين النقل إليهم، وهذا نقله في مجمع الفوائد معزيا للأوسط عن أبي هريرة مرفوعاً إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «يا أمة محمد والذي بعثني بالحق لايقبل الله صدقة من رجل وله قرابة محتاجون إلى صلته ويصرفها إلى غيرهم، والذي نفسي بيده لاينظر إليه الله يوم القيامة» . اهـ. رحمتي. والمراد بعدم القبول عدم الإثابة عليها وإن سقط بها الفرض؛ لأن المقصود منها سد خلة المحتاج وفي القريب جمع بين الصلة والصدقة. وفي القهستاني: والأفضل إخوته وأخواته ثم أولادهم ثم أعمامه وعماته ثم أخواله وخالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظم. اهـ. قلت: ونظم ذلك المقدسي في شرحه".


فتوی نمبر : 144008200154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے